محبت کا سفر

 ناول: محبت کا سفر

پیشکش: ناول کیفے

دن کا اجالا ابھی پوری طرح پھیلا نہیں تھا جب احمد نے اپنی نشست پر بیٹھ کر کھڑکی سے باہر دیکھنا شروع کیا۔ یہ ایک لمبا سفر تھا، اور وہ اپنے کام کے سلسلے میں لاہور جا رہا تھا۔ ٹرین کی روانگی کے کچھ ہی دیر بعد، اس کی نظر ایک لڑکی پر پڑی جو اس کی سامنے والی نشست پر بیٹھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ لڑکی کی معصومیت اور شائستگی نے احمد کے دل میں پہلی نظر میں ہی ایک خاص مقام بنا لیا۔

"آپ کی مدد کر سکتا ہوں؟" احمد نے اخلاقاً پوچھا۔

"جی شکریہ، میں خود سنبھال لوں گی،" لڑکی نے مسکرا کر جواب دیا۔

یہ عالیہ تھی، ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والی، جو اپنے بیمار والدین کے علاج کے لیے کسی ہسپتال جا رہی تھی۔ اس کا لباس سادہ مگر صاف ستھرا تھا، اور اس کی آنکھوں میں خوابوں کی جھلک تھی۔

سفر کے دوران، احمد اور عالیہ کے درمیان بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا۔ احمد نے محسوس کیا کہ عالیہ کی سادگی اور خلوص نے اسے بہت متاثر کیا ہے۔ دونوں نے اپنی زندگیوں کے قصے شیئر کیے اور یوں ایک دوسرے کے قریب آتے گئے۔

"آپ کی آنکھوں میں بہت سے خواب ہیں،" احمد نے ایک دن عالیہ سے کہا۔

"خواب تو ہیں، لیکن حالات کے مارے ہیں،" عالیہ نے افسردگی سے جواب دیا۔

سفر کے اختتام تک، دونوں کو احساس ہو چکا تھا کہ ان کی دوستی محبت میں بدل چکی ہے۔ لیکن حالات کا فرق اور عالیہ کی منگنی ان کے درمیان رکاوٹ بن رہی تھی۔ احمد نے اپنے دل کی بات عالیہ کو بتا دی، لیکن عالیہ نے اس کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی منگنی کو نہیں توڑ سکتی۔

"ہماری محبت شاید قسمت میں نہیں ہے،" عالیہ نے آنسو بھری آنکھوں سے کہا۔

احمد کے گھر والوں نے جب اس کی محبت کی بات سنی، تو انہوں نے اسے سختی سے منع کر دیا۔ ان کا خیال تھا کہ ایک امیر گھرانے کا لڑکا کسی غریب لڑکی سے شادی نہیں کر سکتا۔ احمد نے بہت کوشش کی، لیکن آخرکار وہ اپنے والدین کی مرضی کے آگے جھک گیا۔

اسی دوران، عالیہ کی شادی اس کے منگیتر سے ہو گئی۔ احمد کے دل میں ایک خلا تھا، جو کبھی پورا نہیں ہو سکا۔

دو سال گزر گئے۔ عالیہ کی زندگی میں اس کا شوہر ایک مہربان انسان تھا، لیکن قسمت نے ایک بار پھر اسے آزمائش میں ڈال دیا۔ عالیہ کا شوہر ایک حادثے میں چل بسا، اور وہ پھر سے اکیلی ہو گئی۔

چھ ماہ بعد، ایک دن احمد اور عالیہ کی ملاقات ایک بار پھر اسی ٹرین میں ہوئی۔ وقت نے دونوں کے زخم بھر دیے تھے، لیکن دل کے جذبات ابھی تک زندہ تھے۔

"کیا تمہیں وہ پرانا وقت یاد ہے؟" احمد نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔

"ہاں، یاد ہے،" عالیہ نے مسکرا کر جواب دیا۔

اس دفعہ، دونوں نے اپنے دل کی بات سنی اور شادی کی تاریخ طے کر لی۔ احمد نے اپنے والدین کو بھی راضی کر لیا، اور عالیہ کے والدین نے بھی اس رشتے کو قبول کر لیا۔ 

احمد اور عالیہ نے اپنی زندگی کی نئی شروعات کی، اور ان کی محبت نے تمام رکاوٹوں کو پار کر لیا۔ وہ جانتے تھے کہ محبت کا سفر کبھی آسان نہیں ہوتا، لیکن سچے دل سے کی گئی محبت ہمیشہ کامیاب ہوتی ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی